واشنگٹن ،14؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)بتایا جاتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے نامزد مشیر، مائیکل فِلن کی 29دسمبر کو روسی سفیر کے ساتھ کئی بار ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، اُسی روز جس دِن صدر براک نے 35روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے اور روس پر دیگر تعزیرات عائد کی گئیں، جس کا سبب روس کی جانب سے بظاہر گذشتہ سال کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوششیں تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق، ایک اعلیٰ امریکی اہل کار نے جمعے کے روز کہا کہ اوباما انتظامیہ اِن ٹیلی فون کالوں کے علاوہ فِلن اور روسی سفیر کے مابین دیگر کثرت سے کیے جانے والے رابطوں سے آگاہ ہے۔
ٹرمپ کے ترجمان، شان اسپائسر نے جمعے کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ فِلن اور سفیر نے 28دسمبر کو رابطہ کیا اور 20جنوری کو ٹرمپ کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کی تقریب کے بعد ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ٹیلی فون پر گفتگو کے وقت کے تعین پر بات کی۔ اسپائسر نے مزید کہا کہ تعطیلات کے دوران، ٹیسکٹ میسیج (ایس ایم ایس) کے ذریعے اُنھوں نے کرسمس کی مبارکباد کا تبادلہ بھی کیا۔ اُنھوں نے فِلن اور روسی سفیر کی جانب سے 29دسمبر کو گفتگو کی تصدیق نہیں کی۔آنے والی انتظامیہ اور غیر ملکی حکومتوں کے درمیان گفتگو کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن، امریکہ کی جانب سے جوابی اقدامات کیے جانے ہی کے روز کئی بار کی گفتگو سے سوال جنم لیتے ہیں آیا فِلن اور سفیر نے ممکنہ روسی جواب کے بارے میں تو گفتگو نہیں کی۔امریکہ سے درجنوں روسی اہل کاروں کی ملک بدری اور تعزیرات عائد کیے جانے کے ایک روز بعد، پیوٹن نے کہا کہ وہ بدلہ لینے کا نہیں سوچ رہے۔ ٹرمپ، جنھوں نے بارہا پیوٹن کو سراہا ہے، روسی صدر کے فیصلے کی تعریف کی۔